خواجہ معین الدین چشتی خواجہ معین الدین چشتی

خواجہ معین الدین چشتی خواجہ معین الدین چشتی 1142ء میں ہرات میں واقع خراساں سیستان کے قصبہ سجز میں پیدا ہوۓ۔ آپ حسنی حسینی سیّد تھے آپ کے والد حضرت غیاث الدین رٸیس شہر اور تجارت کے پیشے سے منسلک تھے اور ایک با اثر شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی والدہ کا نام سید ام الورع ماہ نور تھا۔آپ کا شجرہ والدہ ماجدہ کی طرف سے امام حسن اور والد کی طرف سے نسب کا سلسلہ امام حسینؓ سے ملتا ہے۔ آپ کا شمار برِ صغیر کے بڑے بزرگوں میں ہوتا ہے آپ برِ صغیر میں سلسلہِ چشتیہ کےبانی ہیں۔ برِ صغیر میں جس تیزی سے اسلام پھیلا اس میں آپ کی مستقل تبلیغ کا بہت بڑا حصّہ ہے۔ آپ 20سال سفر کرتے رہے اس سفر سے پہلےآپ بخارا اور ثمرکند پہنچے اور وہاں سے علم سے فیض یاب ہونے کے بعد عراق چلے گۓ وہاں ہارون کے مقام پر ان کی ملاقات خواجہ عثمان ہارونیؒ سے ہوٸی مرشد کی صحبت میں رہ کر خلافت کے منصب پر فاٸز ہوۓ۔ اور اپنےمرشد کے ساتھ طویل عرصہ سفر فرمایا۔ سفر کے دران آپ شیخ عبدالقادر گیلانیؒ , شیخ شہاب الدین سہروردی کے علاو اور بھی کٸ صوفیاء کرام سے ملاقت ہوٸ۔ آپ ملتان بھی تشریف لاۓ ۔ 1206ء میں آپ پرتھوی راج کے دورِ حکومت میں اجمیر شریف تشریف لے آۓ اور یہاں مستقل قیام کیا اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام شروع کیا
ہندوستان میں جواللّہ کا نام لیا گیا اوردین کی تبلیغ کا کام ہوا ان کارناموں میں آپ کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی آپ کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ ہندوستان میں علومِ معرفت کا افتتاح آپؒ سے ہی ہوا اور آپؒ کی ہی بدولت سلسلہِ چشتیہ ہندوستان میں مقبول ہوا۔ صرف ہندستان میں نوّے لاکھ لوگ آپ کے ہاتھوں داٸرے اسلام میں داخل ہوۓ۔آپ کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی, چھوٹی سی جھونپڑی میں رہاٸش اور افطار میں 5 مثقال سے زیادہ روٹی میسر نہ آٸ ۔ ہندوستان کے ذات پات , اعلی, اچھوت کے ماحول میں اس فرق کو مٹا کر دین کا خوبصورت نظریہ توحید عملی طور پر پیش کیا اور بتایا کہ زندگی میں اسلام کے اصول شامل کر کے کیسے یہ تمام تفریق بے معنی ہوجاتی ہے۔ آپکا انتقال سلطان التمش کے دور میں ہوا۔ اور تاریخِ وفات ٦ رجب یوم دو شنبہ ہے
خواجہ معین الدین چشتی خواجہ معین الدین چشتی خواجہ معین الدین چشتی خواجہ معین الدین چشتی Reviewed by Syed Daniyal Jafri on April 13, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.