Hazrat Iskandar Zulqarnain (A.S)

 اسکندر ذوالقرنین

ذوالقرنین عربی زبان کا لفظ ہے اس کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا, دو گیسو والا قرآن میں ان کا ذکر سورۃ الکہف کی آیت نمبر 83 سے 98 تک آیا ہے ۔ 

اور سوال کرتے ہیں تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں تو آپ کہہ دیجیے کہ عنقریب پڑھوں گا میں اوپر تمہارے اس میں سے کچھ مذکور, بے شک اللہ تعالی نے اسے قوت عطا کی تھی زمین میں اور اسے دنیا کے ہر راستے پر چلنے کی صلاحیت دی تھی یعنی سر انجام سفر کرنے لگا ۔ یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈوبنے کی جگہ پر تو اس نے سورج کو ڈوبتا ہوا پایا ایک دلدل کی ندی میں اور اس نے اس جگہ پر ایک قوم کو بھی پایا۔ یعنی اللہ تعالی نے کہا اے ذوالقرنین یا یہ کہ عذاب کرے تو ان کو یا یہ پکڑے تو ان میں بھلائ ۔ یہ سن کر ذوالقرنین بولا جو شخص ظالم ہے پس البتہ عذاب کریں گے ہم ان کو پھر پھیرا جاوے گا اپنے پروردگار کی طرف پس عذاب کرے گا ان کو عذاب بڑا اور جو لوگ کے ایمان لائے اور عمل کیے اچھے پس ان لوگوں کے واسطے بطریق جزا کے نیکی ہے اور البتہ ہم کہیں گے اس کو اپنے سے کام آسان ۔ پس جو حاکم عادل ہو اس کی یہی راہ ہے کہ بروں کو سزا دے ان کی برائ کی اور بھلے لوگوں سے نرمی اختیار کرے پس اسکندر نے یہ بات کہی یعنی اس نے یہ طریقہ اختیار کیا ۔

ذوالقرنین کا ذکر قدیم یونان اور باقی مذاہب میں بھی ملتا ہے کوئ کہتا ہے کہ آپ نبی تھے کوئ کہتا ہے نہیں,  اسی طرح آپ کو سکندر اعظم بھی سمجھا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ 

آپ کو قرآن میں اللہ نے یاایہا النبی /الرسول کہہ کر نہیں بلکہ قلنا یا ذالقرنین کر کے مخاطب کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی یا رسول نہیں تھے بلکہ ایک بہادر نیک اور صالح انسان تھے ۔ اللہ تعالی نے آپ کے ذریعے قوم کو یاجوج ماجوج جیسی قوم سے نجات دلائ ۔

حد مشرق میں یاجوج ماجوج قوم پائ جاتی تھی اور اس نے بہت تباہی مچا رکھی تھی اللہ کو نہیں مانتی تھی تو ذوالقرنین نے ان کے لے ایک ایسی دیوار بنائ جو لوہے تانبے سے ملا کر بنائ گئ وہ اس کو پار نا کر سکے ۔

Hazrat Iskandar Zulqarnain (A.S) Hazrat Iskandar Zulqarnain (A.S) Reviewed by Syed Daniyal Jafri on August 22, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.