Hazrat Nooh (A.S) with MCQs


 حضرت نوح علیہ السلام

حضرت نوح علیہ السلام کا نام شکر تھا بعد میں نام نوح پڑا ۔ قرآن حکیم میں بھی آپ کا نام نوح پکارا گیا ہے اور باقاعدہ ایک سورۃ کا نام بھی نوح ہے۔ آپ کا نام نوح اس لیے پڑا کہ آپ اپنی قوم پر بہت نوحہ کیا کرتے تھے مطلب قوم کو ساڑھے نو سو برس آپ نے تبلیغ کی اور قوم پھر بھی جہالت اور کفر پر ڈٹی رہی ۔ اس کی گواہی قرآن کچھ یوں دیتا ہے ۔


ترجمہ : اور بھیجا ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کے پاس پس رہے وہ اپنی قوم کے پاس ساڑھے نو سو برس اور اس مدت میں چالیس مرد اور چالیس عورتوں کے سوا کوئ ایمان نہ لایا ۔


اللہ کے حکم سے حضرت نوح ہر روز پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اللہ تعالی کی طرف مخلوق کو توحید کی دعوت دیتے اور پکار کر کہتے : لاالہ الا اللہ وانا رسول اللہ اللہ کے حکم سے آپ کی آواز مشرق و مغرب پہنچ جاتی اُس وقت کے مردود لوگ اس کلمہ حق کو سن کر اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے اور بعض ملعون کپڑوں سے اپنے منہ کو چھپا لیتے اور بعض کافر یہ آواز سن کر بھاگ جاتے اور چپکے سے دبک جاتے ۔ جب آپ اُن مردودوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے تو وہ آپ پر ہاتھ چلاتے اور مارتے مارتے بے ہوش کر دیتے ۔ آپ نے تمام تکالیف برداشت کیں اور قوم کو راہ حق کی دعوت دیتے رہے اور پھر پکار کر بولتے اے لوگو!  تم کہو خدا وحدہ لاشریک ہے اور نوح اس کا برحق رسول ہے ۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قوم نے آپ کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا اس کے صدمے اور تکلیف سے حضرت نوح علیہ السلام تین روز شدید بےقرار رہے پھر بھی دعوت حق میں لگے رہے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی یہاں تک کہ طوفان کی نوبت آن پہنچی اور حضرت نوح علیہ السلام نے کہا :


اور حضرت نوح نے اپنے رب سے کہا اے میرے رب! میں بلاتا رہا اپنی قوم کو رات دن مگر میرے بلانے سے اور زیادہ بھاگتے رہے اور ہر روز مجھ پر سوائے ظلم وستم کے کچھ نہیں کرتے اور مجھے ناسزا کہتے ہیں۔


ایک بار حق کی تبلیغ کرتے ہوئے ایک شخص نے آپ کو پیٹا اور لہولہان کر دیا تب اس کی بیوی نے کہا کہ چھوڑو اسے یہ بے چارا دیوانہ ہے خود سے کچھ نہیں کہتا تب ان لوگوں سے ناامید ہو کر اللہ کی بارگاہ الہی میں آہ و زاری کی اور کہا کہ:


اور کہا نوح نے اے رب میرے! اب نہ چھوڑ زمین پرمنکروں کا ایک گھر بھی بسنے والا ۔کہ نسل کافروں کی باقی نہ رہے زمین پر ۔


تب جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اےنوح اس درخت سے تو ایک کشتی بنا نوح علیہ السلام کہا کس طرح بناؤں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تو اس درخت کو کاٹ اور چیر کر تختے بنا میں تجھے بتاؤں گا ۔ نوح نے درخت کو کاٹا اور تختے بنائے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا :


ہمارے روبرو ایک کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ بول اور یہ تو بے شک غرق ہو گے ۔


جب آپ نے یہ کشتی بنائ تو لوگوں نے مذاق اڑایا اس پر آپ کو بہت دکھ ہوا اس کی گواہی قرآن نے سورۃ نوح میں کچھ اس طرح دی ہے ۔ 


اور نوح علیہ السلام کشتی بناتے تھے اور جب اس قوم کے سردار اس پر سے گزرے تو ہنسی کرتے اس پر نوح علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اگر تم ہنسی کرتے ہو ہم پر تو ہم ہنستے ہیں تم پر جیسے تم ہنستے ہو اور اب آگے جان لو گے کہ کس پر عذاب آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا اور ہمیشہ رہنے والا ۔


سورۃ نوح کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب قوم آپ پر ہنستی تھی کہ نوح اتنا پانی کہاں سے لائے گا تو آپ ان پر اس لے ہنستے کہ موت ان کے سر پر کھڑی ہے اور یہ ابھی غافل ہیں ۔ اس طرح اللہ کے حکم سے روئے زمین پر پانی ابل پڑا اور آپ کی نافرمان بیوی اور بیٹا بھی اسی طوفان کی نظر ہو گے ۔ 

سورۃ نوح میں ارشاد ہے کہ :

یہاں تک کہ پہنچا حکم ہمارا اور جوش مارا تنور نے ۔کہا ہم نے چڑھا لو اس میں ہر قسم کا جوڑا اور اپنے گھر کے لوگوں کو مگر جس پر کہ پہلے پڑ چکی بات اور جو ایمان لایا ہو اور نہیں ایمان لائے تھے مگر تھوڑے سے

حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کنعان کو بہت سمجھایا مگر وہ کفر پر ڈٹا رہا ۔ سورۃ نوح میں باپ بیٹا کا مکالمہ کچھ بیان ہوا ہے ۔

اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے,اے بیٹے سوار ہو ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ منکروں کے ۔

اور پھر بیٹے نے والد کو جواب دیا کہ 

کنعان نے کہا کہ میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا ۔ اور پہاڑ پانی کے سیلاب سے مجھے بچالے گا ۔


حضرت نوح علیہ السلام نے کہا 

کوئ بچانے والا نہیں آج کے دن سے اللہ تعالی کے حکم کے سوا مگر جس پر وہ رحم کرے ۔


اور اس طرح آپ کا بیٹا بھی طوفان نوح کی نظر ہو گیا ۔ اور پھر اللہ نے جس جاندار کو چاہا اسے بچا لیا اور تمام منکر لوگوں کو سزا دی ۔ اور آپ کے بعد آپ کی قوم نے آپ کے صحابی ود, سواع, یغوث, یعوق اور نسر کو پوجنے لگے ۔ اس طرح پھر سے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہو گے ۔


سورۃ عنکبوت میں ہے کہ:

جب نوح علیہ السلام اس دنیا فانی سے گئے تو فرشتوں نے پوچھا اے شیخ النبیاء! آپ نے دنیا کو کیسا دیکھا ؟ آپ نے فرمایا مجھے تو ایسا معلوم ہوا کہ ایک دروازے سے گھس کر دوسرے دروازے سے نکل آیا ۔

Hazrat Nooh (A.S) with MCQs Hazrat Nooh (A.S) with MCQs Reviewed by Syed Daniyal Jafri on August 22, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.