Sufizm, and its effects on India Culture

 صوفی ازم۔

مسلم معاشرے کی تنظیم میں صوفی , علماء کا کردار۔

صوفی سے کیا مراد ہے ؟


صوفی وہ ہےجو ہر لمحہ اسی کا ہو کررہتا ہے جس کا وہ بندہ ہے۔ 

 شریعتِ مصطفی صلی اللّہ علیہ وسلم پر سختی سے کاربند ہو۔

یہ سسلہ تب سے ہی جب سے اسلام ہے, کیوں کے صوفیانہ مزاج اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے, وہ افراد جو عشقِ الہی اور اللّہ کےمحبوب صلی اللّہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوبے ہوۓ اپنی معمولاتِ زندگی ترک کر کے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے آگے اپنی گردنیں جھکاۓ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہے, آگے چل کر امّت کی اصلاح کےمشن پر سختی سے جتے رہے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم

کے یہ پیارے ساتھی اصحابِ صفہ کہلاۓ ۔ آگے چل کر ان اصحاب کے ہاتھوں  ظاہری اور باطنی تربیت پانے والے افراد ان ہی کے مشن کو آگے لے کر چلتےگۓ۔

ایسے افراد کو صوفی اس لیے بھی کہا گیا کیوں کہ ان کی صفات اصحابِ صفہ سے ملتی ہیں۔

مطمٸن قلب کا مالک جودنیاوی حرص و لالچ سے بالکل آزاد ہو, منوّر چہرہ اللّہ کی محبت میں مجزوب شخص کو صوفی کہا جاتا ہے, صوفی وہ ہوتا ہے جس کی زندگی شرعیت کی پابند ہوتی ہے ۔

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ

 صوفی مخلوق سے آزاد اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔

دین کی تبلیغ کرنے کا بہت بڑا سہرا دریشوں کے سر ہے۔

پاکیزہ نفس اور مطمٸن دل , خواہشِ دنیا مکمل نظر انداز کر کے اللّہ سے سچی لو لگانے والے اور آنے والوں کی تربیت عین شرعیتِ خدا وندی کے اصولوں پر کرنے والی نیک دل شخصیات دینِ اسلام کا وہ عظیم سرمایہ رہی ہیں کہ ان کی دینِ اسلام کے لیے کی گٸ خدمات بھلا دینا یا ان کا تزکرہ نہ کرنا نہ ممکن سی بات ہے۔ 

عالِم جہاں شرعیت کے اصول و قوانین و ضوابط سمجھاتا ہےوہیں یہ افراد ان سے بالکل الگ ڈھنگ رکھتے تھے۔ جس طرح نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کی صحبت پا کر عام حیثیت افراد ایسی تربیت حاصل کر گۓ کہ آج وہ موجود نہیں لیکن ان کی خدمات ان کے کیےہوۓ کام ان کی محنت آج بھی ان کے ناموں کو زندہ رکھتی ہیں۔

جب دنیا اندھیروں میں ڈوب رہی ہوتی ہے تب اللّہ کی طرف سے بھیجا گیا مدد کا دیا چمکتا ہے جیسے انسانیت ادھر ادھر جہالتوں میں بھٹکتی پھر رہی تھی تب اللّہ اپنے برگزیدا انبیاء مبعوز فرماتا تھا مختلف قوموں پر مختلف انبیاء بھیجے جو ان افرادکو گمراہی کے دلدل سے نکالنے کا سبب بنے۔  ایسے ہی مثال ہندوستان مں دینِ اسلام کی آمد اور صوفیاء اکرام کی کاوشوں کی بات کرں تو یوں کہنا صحیح ہوگا کہ جب ہند میں انسانیت سسک رہی تھی ظلم و جبر , تشدد کا شکار تھی اس وقت اللّہ نے ان افراد کو ظلم کے اس دلدل سے نکالنے کے لیے اپنے چنے ہوۓ کامل افراد منتخب کیے۔ 

ہندوستان میں صوفیا کی آمد کا سلسلہ عربوں کے ہاتھوں سندھ کی فتح سےہوا۔ اور  صوفیاۓ کرام اس ابتداٸ دور میں ہی اس سرزمین پر پھیل گۓ۔

ہندوٶں کے ستم کے ستاۓ افراد کو جب دینِ اسلام کی رحمتیں نظر آٸیں تو وہ جوق در جوق اس کی طرف بڑھے۔ 

اللّہ کے ان ولی درویش صوفیوں نے ان افرادکو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہ افراد ان کےعلاقوں میں جا کر آباد ہوۓ جہاں ہندوٶں کے دھتکارے نچلی ذات کے افراد رہتے تھے۔ 

دینِ اسلام سے انکی آشناٸ کرواٸ اور ان کی نیک سیرت دیکھ کر  ہندو افراد ان سے متاثر ہوۓ بنا نہ رہ پاۓ نہ صرف اسلام قبول کرتے بلکہ ان صوفیوں کے زیرِ سایہ تربیت پا کر کنکرسے ہیرے بن گۓ۔ اور اس سلسلے کو ایسے ہی ذوق و شوق سے لے کرآگے بڑھتے رہے۔

لوگوں کو دینِ اسلام کے خطوط پر سنوارتے رہے۔

دراصل اسلام کا بنیادی نظام انسان کوانسان سمجھنا اور تمام انسان کو برابری کا رسر دینا کہ کسی کو بڑا چھوٹا نہ سمجھنا نہ اچھوت سمجھنا ۔ صوفیاء اللّہ اسی فعل کوبنیاد بنا کر ان کےدل میں گھرکر گۓ ۔

جب ہندوٶں کے ستاۓ ہوۓ افراد نے دیکھا کہ یہ دراز قد خوبصورت شخصیت کے مالک افراد کیسے عاجزہیں کہ یہ ہمیں اپنے برتن میں کھانا کھلاتے ہیں اپنے برتن میں پانی پلاتے ہیں ہم سے انکساری سے ملتے ہیں ہم سے گھن نہیں کھاتےہار سارھ بات چیت کرتے ہیں  ہم کو انسان سمجھتے ہیں عزّت دیتے ہیں۔ یہ وہ گر تھا اولیاء اللّہ کا جس سے انہوں نے ان کو بے انتہا متاثر کیا ۔ اس اخلاق اور عاداتسے ار اپنے اطوار سے صوفیاء کرام نے ہندوستان میں نہ صرف دین پھیلایا  بلکہ ان کیایسی تربیت کی کہ آگے چل یہ افراد دینِ اسلام کو ہندوستان میں مزید کامیاب کرتے چلے گۓ۔


تعلیمات:

اللّہ اور بندے کے بیچ کے تعلق کو اور مالک سے بندے کی محبت کو صوفیاء کرام نےایک منفرد انداز میں واضح کیا ۔

علماء اور صوفیاء کرام کے بیچ اس معاملےمیں کافی اختلاف رہا ہے۔

صوفیاء کرام کے نزدیک اصل تصوف اللّہ کی رضا اور محبت میں ہے۔

تصوف کے راستے کی بنیاد شریعت پر ہے۔ 

خلوصِ نیت کے ساتھ شریعت پر عمل کرنا سچّےصوفی کی پہچان ہے۔ اور یہ ہی ان کی تعلیمات ہیں کہ مخلوق کا اپنے خالق  سے نہ ٹوٹنے والا تعلق قاٸم کرواتے ہیں, اللّہ سے محبت اور اس کی اطاعت کے پابند کرتے ہیں

کہ مسلمان کی زندگی میں ایک ایک عمل شریعت کے عین مطابق ہو۔


Sufizm, and its effects on India Culture Sufizm, and its effects on India Culture Reviewed by Syed Daniyal Jafri on August 29, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.