Anjuman Himayat ul Islam Lahore


 انجمنِ حمایتِ اسلام


1884ءمیں اندرونِ لاہور کے موچی دروازے کی مسجد بکن خان میں بعد نمازِ عصر ہونے والے ایک مختصر اجتماع کو اس وقت کسی نے اہمیت نہ دی  نہ ہی یہ کسی کے گمان میں تھا  کہ اس مختصر سے مجمعے سے اتنی بڑی تنظیم وجود میں آۓ گی انجمنِ حمایتِ اسلام کے نام سے جو ایک تن آور سایہ دار درخت کی صورت اختیار کرلے گی۔ اور لاکھوں افرادکے فاٸدےکا باعث بنے گی


دینِ اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کرنا بھی اس ادارے کے اہم مقاصد میں سے ایک تھا کہ ہوا کچھ یوں کہ اس زمانے میں یتیم و بے سہارا اور لاوارث مسلمان بچّوںاور بے سہارہ عورتوں کو معاشرے میں جب مشکلات در پیش آرہی تھیں تو ان کی اس مشکل سے ہندو اور عیساٸی مشنریز فاٸدہ اٹھا کر انہیں اپنے دین کی طرف راغب کررہے تھے۔ اس لیے اس ادارے کے ذریعے انکی مالی مشکلات کے حل کا راستہ نکالنے کا فیصلہ کیاگیا۔

1885ء میں موچی دروازہ لاہور میں کراۓ کا ایک کمرا لیا گیا اور یتیم خانے کی بنیاد رکی گٸ ۔ مسلمانوں کے مالی حالات  زبوں حالی کا شکار تھے, لہذا انجمن نے مسلمان گھرانوں میں مٹّی کے برتن رکھوۓ جن میں دردمنددل عورتیں آٹا گوندھتے ہوۓمٹّی بھر آٹا ڈال دیتی اور مہینے کےاختتام پر انتظامیہ کے عہدے دار گھروں سے یہ آٹا اکٹھے کرتے اور بازار میں یہ آٹا فروخت کرکے اس سے ملنے والی رقم انجمن کے فنڈز کے طور پر جمع کرواتے جس سے یتیم و بے آسرا بچوں کی کفالت کی جاتی۔ 

 اس انجمن کی آمدنی کا ایک ذریعہ کتابوں کی فروخت بھی تھا مثلاََ  کوٸ کتاب عطیہ کرتا تو اس کو فروخت کر کے اس کی رقم کو تعلیمی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اورایک گھر میں ان بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول قاٸم کیا گیا۔ 

فلاحی مقاصد کی تکمیل کے لیے موچی دروازہ میں واقع حویلی سکندر خان میں ایک دفتر کی بنیادرکھی گٸ۔

ابتداٸی دور میں انجمن کے تحت قاٸم ہونے والے ادارے یہ تھے۔ملّی دارالاطفال , یتیم بچے اور بچیوں کے لیے علیحدہ دارالشفقت, بے سہارا خواتن کے لیے دارالامان اور برِصغیر کے مسلمانوں کی دینی رہنماٸی کے لیے شعبہ نشر و تالیف ۔

 قیامِ پاکستان سے قبل مسلمان قاٸدین نے اس اداے کے فروغ و استحکام میں گہری دل چسپی لی۔ 

اس انجمن کےبانی صدر خلیفہ حمید الدین تھے جو کہ1886ء سے 1890ء  تک اس عہدے پرفاٸز رہے۔

یتیم بچوں کی کفالت, تعلیم,  بے سہارا عورتوں کی کفالت یہ اس ادارے کے فراٸض میں شامل تھا۔


یہ انجمن مختلف اوقات میں جلسے منعقد کرتی جن میں  ہزاروں مسلمان شرکت کرتے  اور برِ صغیرمیں نمایاں ادبی اور سیاسی شخصیات شرکت کرتیں ۔

مختلف نظمیں  اسلامی نغمے گاۓ جاتے بعد میں جنہیں کتابوں میں چھاپا بھی جاتا

 رہا۔

یہ جلسے بعد میں میلے بھی منعقد کرتے والدین اپنے بچوں کو ان میلوں میں شرکت کروانے لے کر آتے اور  اپنے لیڈران  کی تقاریر سنواتے, قومی رہنماٶں کے نظریات سے آگاہ کرتے اور ایک دوسرے سے یکجہتی کااظہار کرتے۔

1899ء میں علامہ اقبال نے پہلی بار اس انجمن کے سالانہ جلسے میں شرکت کی اور اپنی نظم نالہء یتیم پڑھی اس نظم نے لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر کیا ۔

اس انجمن نے مدرسة المسلمین  قاٸم کیا جس نے اسلام پر کٸ کتایں شاٸع کیں 

یہ کتابیں سرکاری اسکولوں میں اضافی درس کے طور پر پڑھاٸ جاتیں ۔

اس انجمن نے ایک مدرسہ  تعلیم القرآن  کے نام سے قاٸم کیا جس میں انجمن کے صدر صاحب تقریر کرتے تھے۔

ان کی وفات کےبعد مدرسے کانام ان کےنام پررکھ دیا گیا مدرسہ حمید۔

انجمن نے 1885ء میں مسلمان لڑکوں کے لیے پانچ اسکل قاٸم کیے۔

عورتوں کی تعلیم پرخاص زور اور توجہ دیتے ہوۓ اس انجمن نے 1925ء میں اینگلو و رینکلر اسلامیہ گرلز کالج قاٸم کیا 1939 میں اسے ڈگری کالج کا درجہ  دیا گیا۔

روایتی تعلیم کے علاوہ دینی تعلیم  نصاب کا حصہ تھی۔

1891ءمیں انجمن نےاسلامیہ کالج براۓ طلباء قاٸم کیا ایک سال بعد ہی اس کالج کا پنجاب یونیورسٹی سے الحاق کیا گیا۔ 

تاریخی شواہد کامطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس انجمن کی سرگمیاں  تحریکِ پاکستان کی جدوجہد کا تسلسل تھیں۔



Anjuman Himayat ul Islam Lahore Anjuman Himayat ul Islam Lahore Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 03, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.