Darul Aloom Deoband




دارالعلوم دیوبند

شاہ ولی اللّہ کی تعلیمات اور تحریک سے متاثر ہوکرکچھ علماءنےبرطانوی ہند میں دینی مراکز  کی ضرورت شدت سے محسوس کی اسی وجہ سے یو پی, سہارن پور کے ایک قصبے نانوتہ میں حضرت مولانا قاسم ناناتوی نے 30 مٸی 1866ء کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد, مسجد چھتہ  میں دارالعلوم  دیوبند کی بنیاد رکھی۔ اس کارِخیر میں انہیں مولانا محمعد الحسن کے والد مولوی ذوالفقار علی صاحب اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے والد مولوی فضل الرحمن صاحب کا عملی تعاون حاصل  رہا۔ مدرسے کا آغاز چھتہ دیوبند کے انار کے درخت کے نیچے ایک معلم اور ایک طالبِ علم کے درمیان ہوا۔

معلم مولوی محمود اور طالبِ علم محمود الحسن۔  اس مدرسے کودارالعلوم بنانے کا سہرا مولانا قاسم ناناتوی اور مولانا رشیداحمد گنگوہی کوجاتا ہے ۔  اس کی ترقی میں مولانا محمود الحسن شیخ الہند اور مولاناشبیر احمد عثمانی بھی شامل ہیں۔  

دیوبندکے علماء کاایک طبقہ مولانا حسین احمد مدنی, مولانا ابو الکلام آزاد کا مسلم لیگ سے سیاسی اختلاف تھا ۔ان کاکہناتھا کہ انگریز کے زیرِ سایہ ہونے والی تقسیم مسلمانوں کے لیے کبھی بھی فاٸدہ کی حامل نہیں ہوسکتی لیکن پاکستان کے قیام کےبعد کسی نے اس کی مخالفت نہ کی۔ مولانا مدنی کے الفاظ کہ پاکستان کے قیام کے بعد اس کا حکم مسجد کا سا ہے اس کے بننے میں اختلاف ہوسکتا ہے , بننے کے بعد اسکی تقدیس فرض ہے۔ 

مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا کہ پاکستان وجود میں آگیا ہے تو اب اسے باقی رکھناچاہیے اسکابگڑ جانا سارےعالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا۔

یہ دارالعلوم شاہ ولی اللّہ کی تحریک کو آگے لے کر بڑھا۔یہاں کے علماءعملاََ مسلک امام ابو حنیفہ کے پیروکار ہیں۔ انگیز کے دورِ حکومت میں بھی اس مدرسے کے علماءنے یہاں حنفیہ کی مسند تدریس کو جاری رکھا ۔

ہندوستان میں انگریز قبضہ سے پہلے 

 مغل بادشاہ ,شاہ ولی اللہ اور مجددالف ثانی حنفی مسلک کےمقلد رہے ہیں ۔

جنوبی ایشاء میں آباد مسلمانوں کی دوتہاٸ اکثریت سےزیاد مسلمان اس ہی ملک کے پیروکار ہیں۔

مدرسہ رحیمیہ کو دارالعلوم دیوبند کاپیش خیمہ ٹھرایا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اسکا مقصد ہی شاہ صاحب کی تحریک کو آگے بڑھانا تھا۔

تحریکِ خلافت اور دیگر ہندوستانی سیاست میں حصہ لینےکے لیے دیوبند کے علماء نے جمعیتِ علماء ہند قاٸم کی,تحریکِ خلافت کے حوالے سے بہت کام کیا لیکن اس تحریک کے خاتمے کے بعد  مولانا گنگوہی  کے فتوی کی روشنی میں جمعیت غیر مشروط طور پر کانگرنس کی اتحادی بن گٸ۔


1906ء میں  مسلم لیگ کے قیام کے بعد اس کی سخت مخالفت کی۔ کیوں کہ یہ کانگرنس کے   قومیت کے نظریہ کے حامی تھے۔




سندھ مدرسة الاسلام کراچی


حسن علی آفندی نے یکم ستمبر 1885ء کو سندھ کے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور ترقی کے حصول کے لیے اس ادارے کو قاٸم کیا۔ 

حسن علی آفندی نے اس ادارے کے چندے کے لیے ملک کے کٸ دورے کیے اور فنڈز اکٹھے کیے۔

اس ادارے کا پہلا پرنسپل کسی انگریز کو بنایا جاۓ گا تو ریاست خیر پور کے حکمران اس کی تنخوا ادا کریں گے اور بھاری چندا بھی اس ادارے کودیں گے ۔ یہ طےپایا گیا اور اس ادارے کاپہلا پرنسپل پرسی ہاٸیڈ کو بنایا گیا۔

ان کے اسکول چھوڑنے کے بعد پروفیسر وانس نے بیس سال  اس تعلیمی ادارے  کی تعمیر و ترقی میں صرف کیے۔


بولٹن مارکیٹ میں کرایہ کی عمارت سے اس مدرسے کا آغاز کیا گیا ۔

بعدِ ازاں حسن علی آفندی کی کاوشوں کے بعد الگ سے عمارت کم کراۓ پر لے کر ایک مسجداور بورڈنگ ہاٶس بنا کر اس ادارے کی بنیاد کو مضبوط و مستحکم بنایا۔ 

1986ء  آپ انتقال کرگۓ۔

یہ ایک اقامتی تعلیمی ادارہ تھا قاٸدِاعظم نے ابتداٸ تعلیم  یہیں سے حاصل کی اور اپنی جاٸیداد کا ایک مناسب حصہ سندھ مسلم کالج  کے لیے وصیت کیا۔


حسن علی آفندی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ولی محمد ادارے منتظمِ اعلی بنے اور کچھ ناخوشگوار شراٸط پر ادارے  کی سرکاری سرپرستی حاصل کی۔

ان کی وفات کے بعد 1938ء میں حسن علی عبدالرحمن نےمدرسے کےانتظام سنبھالے اور اس ادارے کوحکومتی کنٹرول سےباہر نکالنے میں کامیاب ہوۓ۔

مدرسےکے انتظامی بورڈ نے  21 جون 1943ء کو اس ادارے کو سندھ مسلم کالج میں تبدیل کیا جس کا سنگِ بنیاد  قاٸدِ اعظم نے رکھا ۔

1947ء میں یہ واحد ادارہ تھا جو سندھ  میں ہندوستان سےآۓ طلباء کی تمام ضروریات کی تکمیل کرتا تھا۔ 

ضرورتِ وقت کے حساب سے اب یہ مدرسہ پھیل کر کٸی  خودمختار اداروں میں تبدیل ہوگیا ہے ۔




Darul Aloom Deoband Darul Aloom Deoband Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 01, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.