Gazwa-e-Badar

 غزوہ بدر


ہجرت کے دوسرے سال 17 رمضان المبارک کو یہ تاریخی معارکہ پیش آیا جو تاریخ میں غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔


بدر  ایک بستی ہے جو کہ مدینہ پاک سے

 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔


اس جنگ کی وجہ یہ بنی کہ ابو جہل نے حضرت سعد بن معازؓ کو کعبہ کے طواف کرنے سے روک دیا تھا کہ  مکہ والے مسلمانوں کو حرمِ کعبہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

جواب میں حضرت سعدؓ  نے ابو جہل کو للکارا کہ وہ ایساکرینگے تو  مسلمان بھی ان کے تجارتی قافلوں کے راستے بند کریں گے۔

کفار جوکہ ویسے ہی مسلمانوں کونقصان پہنچانے کے ارمان لیے بیٹھے تھے۔ 

کفارِ مکہ مسلمانوں کو چھوٹے موٹےبہانےبنا کر تنگ کرتے رہتے تھے , کبھی چھاپے مار کرمویشی چرا لیے۔ اس بار انہیں موقع ملا اور مسلمانوں پر حملے کی تیای شرروع کردی۔ 

ایک قافلہ ابو سفیان کی قیادت میں بھی تیار کر کے روانہ کردیا۔ 


اس صورتِ حال کا جاٸزہ لیتے ہوۓ آپ؃ نے ٕصحابہ کو چھوٹے گروہ کی صورت مدینہ ک اطراف میں بھیجا

آپ؃ نے حضرت عبداللّہ  بن حجش کو ١٢ افراد کے ساتھ نخلہ کے مقام پر بھیجا۔وہاں سے قریش کا تجارتی سامان سے لدا قافلہ گزرا۔ 

آپسی مقابلے میںقریشِ مکہ کا عمرو بن حضرمی قتل ہوگیا۔

مکہ میں یہ خبرپھیل گٸ کہ مسلمان ان کے قافلے لوٹ رہےہیں۔

اس جنگ کاسبب ابوسفیان کا قافلہ اور عمرو بن حضرمی کاقتل بن گیا۔ 

 مسلمانوں کامقصد قافلے کو روکنا تھا,جنگ نہیں۔ لیکن کفارِ مکہ موقع کی تلاش میں تھے

آپ؃ نے صحابہ ؓ سے مشاورت کی۔


حضرت ابوبکر سمیت تمام صحابہ نے جان نثارانہ تقاریر کیں آپ؃ کو ساتھ دینے کایقین دلاتی تقاریر کیں۔ کہ رسول اللّہ آپ حکم دیں ہم سمندروں میں کودنیں کو تیار ہیں۔

اصحاب ؓ تھے کہ جان ہتھیلیوں پر لیے تیار۔

اپنے دین کی راہ میں اللّہ اور اس کے محبوب پر کٹ مرنے کو تیار۔

حضرت مقدادؓ نے کہا کہ ہم موسی؏ کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اورآپکا رب خود جاکر لڑیں۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہوۓ ہیں بلکہ ہم آپ کے داٸیںسے باٸیں سے, سامنےسے اور پیچھے سے لڑیں گےپھر آپ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہونگے جہاں آپ؃ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہا دیں گے۔ آپ  جنگ کا حکم فرماٸیں۔

آپ؃  نے جب اپنے اصحابؓ کا جزبہ دیکھا توآپکاچہرہِ انور  خوشی سے چمک اٹھا۔

۔ جمعہ 17 رمضان المبارک کی رات کو آپ؃ میدانِ بدر میں اترے۔ دوسری طرف قریش تھے جب کی تعداد ١٠٠٠ کے قریب تھی۔ مسلمان ٣١٣ تھے لیکن ایمان افروز جزبہ سے بھرپور اللّہ رسول؃کے حکم کے منتظر۔

آپ؃  کے ہاتھ میں ایک تیر تھا جس سے آپ مجاہدین کی صف بندی کررہے تھے۔ 

مشرکینِ مکہ بھی سامنے صفیں باندھے  کھڑے تھے۔

آپ؃ نے  اپنے جان نثار اصحابؓ کی قلیل تعداد اوربے سرو سامانی کو دیکھ کر اللّہ سے یوں دعا کی کہ

اے اللّہ تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہٕ وہ پورا فرما۔ اے اللّہ اگر آج یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک وگۓ ت پھر قیامت تک تمام روۓ زمین پر تیری عبادت کرن والا کوٸ نہ بچے گا۔

(بخاری,مسلم, ترمزی)


آپ؃خشوع وخضوع سے گریہ و زاری سے دعا فرمارہے تھے  کہ آپ کی چادر مبارک آپکے کاندھے مبارک سے گر گٸ , حضرت ابو بکرؓ صدیق نے آپ کی چادر مبارک اٹھا کر آپ کے کاندھے مبارک پر واپس ڈالی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی علیہ وعلیہ وسلم  اب بس کیجیے اللّہ نےجو عطا کرنے کاوعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا فرماۓ گا  ۔


اسی لمحے اللّہ پاک نے آپ؃ پر وحی نازل فرماٸ  

سورة النفال آیت نمبر ٩

جب تم اپے پروردگار سے فریاد کرتےتھے تو اس نے تمہاری دعاقبول کرلی اور فرمایا کہ تسلی رکھو ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پچھے آتے جاٸیں گے تمہاری مدد کریں گے۔



سورة النفال کی آیت12 میں اللّہ تعالی نے آپ؃ سے فرمایا کہ ! 

میں آپ کے ساتھ ہوں آپ اہلِ ایمان کے قدم جماٶ  میں کافروں کے دل میں رعب ڈالوں گا ,سو تم گردنوں پر مارو(قتل) اور ان کی پور پور پر مارو۔


پھر زمین وآسمان نے وہ مناظر دیکھے کہ ٣١٣ 

نے ١٠٠٠ پر غلبہ پایا اور رہتی دنیا کو یہ سبق دیا کہ جب آپ حق پر ہوں تو مقدار نہیں نیک نیت بیڑا پار لگاتی ہے۔

اس جنگ میں 13 اصحابؓ نےشہادت پاٸ اور70 کافر جہنم واصل وۓ

Gazwa-e-Badar Gazwa-e-Badar Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 22, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.