General Elections1945


 عام انتخابات


شملہ کانفرنس کی ناکامی کے بعد قاٸدِ اعظم نے  اعلان کیا کہ مسلمان علیحدہ وطن کے علاوہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔ اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے اس تجویز کو مبہم ناکافی اور غیر تسلّی بخش قرار دیا۔

دنوں  پارٹیوں نے انتخابات کے لیے  پرجوش مہم چلانے کا آغاز کیا کیوں کہ یہ انتخابات آنے والے کل کے لیے نہایت اہمیت کے حامل تھے۔

قاٸدِاعظم نے ہندوستان بھر کے دورے کر کے لوگوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اکٹھا کرنے کاآغاز کیا۔

دوسری طرف کانگریس اپنی مکاری پر ڈٹی رہی اور متحدہ ہندوستان کا نعرہ بلند کرتا رہا۔

مرکزی مجلس قانون ساز کے لٸے انتخابات کا انعقاد دسمبر 1945ء میں ہوا۔راۓ دہندگان کی تعداد محدود ہونے کے باوجود زیادہ تعداد میں  لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

غیر مسلم سیٹوں پر کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوٸی ۔

٩١ فیصد سے ذاٸد  ووٹ ان کےحصے میں آۓ۔ 

لیکن مسلم لگ کی کارکردگی نے اس سے ذیادہ متاثر کیا۔ 

مسلمانوں کے لیۓ مخصوص کردہ تمام نشستوں پر مسلم لیگ امدوار جیتے اور یوں ان کی  کامیابی کاتناسب  ١٠٠ فیصد رہا۔


1946ء کے آغاز میں منعقد صوباٸی اتخابات میں بھی نتاٸج کا یہ ہی عالم رہا۔

غیر مسلم نشستوں میں سے ذیادہ تر ر کانگریس کو جیت حاصل ہوٸی اور مسلم نشستوں کا 95 فیصد


۔ 1946ء کے آغاز میں منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں بھی نتائج کا عالم یہی رہا۔ غیرمسلم نشستوں میں سے زیادہ تر پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ مسلم نشستوں کا تقریباً 95 فیصد مسلم لیگ کے حصے میں آیا۔


6 جنوری 1946ء کے روز کانگریس کے سنٹرل الکشن بورڈ نے ایک بلین میں دعوی کیا کہ انتخابی  نتاٸجنے یہ ثابت کیا کہ کانگریس ہندوستان کی سب سے بڑی اور زیادہ طبقات کی نماٸندگی کرنے والی جماعت ہے۔


مسلم لیگ نے 11 جنوری  1946ء کو یومِ فتح کے طور پر منایا اور اعلان کیا کہ انتخابی نتاٸج نے یہ واضح کردیا ہے کہ قاٸدِ اعظم کی قیادت میں مسلم لیگ ہندوستان کے مسلمانوں کی نماٸندگی کرنے والی واحد جماعت ہے۔

General Elections1945 General Elections1945 Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 04, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.