Jinnah Gandi Discussion


 جناح گاندھی مزاکرات


ہندو مسلم اختلافات کوختم کرنے کی آخری کاوش 1944ء کے گاندھی جناح مذاکرات کی صورت میں سامنے آٸی۔

17 جولاٸ کو گاندھی نے قاٸدِ اعظم کوخط لکھا  جس میں ملاقات کرنے کااظہار کیا ۔ قاٸدِاظم نےمسلم لیگ سے اجازت طلب کی۔ 

19 ستمبر 1944ء کے دن  دونوں لیڈران 

کے  مابین  خطوط کے ذریعے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔

گاندھی نے ابتداء میں ہی یہ بات واضح 

کردی تھی کہ وہ ذاتی طور پر اس ملاوات ک خواہاں ہیں  کانگریس کے نماٸندے یا ہندو لیڈر ہوے کی حیثیت سے نہیں۔

اس گفت و شنید کا اصل مقصد مطالبہ پاکستان  مضحکہ خیز بات ہے حالانکہ جناح صاحب اس مطالبے میں نہایت مخلص  تھے۔

 قاٸدِ اعظم نے مطالبہ پاکستان کے معاملے میں وضاحت یوں پیش کی کہ ایک خط میں انہوں نے کہا کہ 

ہمارا کہنا یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان قومیت کے لحاظ سے دو بڑی قومیں ہیں ۔ ہم دس کروڑ آبدی کی ایک قوم ہیں , زندگی 

کے متعلق ہمارا ایک اپنا الگ نظریہ ہے ۔ بین الاقوامی قانون کے تمام اصلوں کے مطابق ہم ایک قوم ہیں۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نہ صرف مسلمانوں کی بھلاٸ بلکہ سارے ہندوستان کی حقیقی بہبود 

ہندوستان کی تقسیم میں مضمر ہے جس کی تجویز قرار دادِ پاکستان میں دی گٸ۔


گاندھی نے اپنا موقف اس کے بالکل برعکس دیا کہ ہندوستان یک قوم ہے اور قرار دادِ پاکستان میں پورے ہندوستان کی  تباہی کے علاوہ کچھ اورنہیں ہے۔  او اگر مطالبہِ پاکستان قبول کر لیا جاتاہے تو علاقوں کا تعین کانگریس اور مسلم لیگ

 کے منظور شدہ کمیشن کے ذریعہ ہونا چاہیے اور علاقہ مکینوں کی راۓ ریفرنڈم کے ذریعے معلوم کی جاۓ۔


اس کا خلاصہ یہ ہے کہسارے ہبدعستان کا اقتدار کانگریس کے حوالے کیا جاۓ  جو کہ اس کےبعد راۓ شماری کے ذریعے الگ ہونے کا فیصلہ کرنے والے مسلم اکثریتی علاقوں کو ہندوستانی وفاق کے اندر علیحدہ  علاقہ دیں گے لیکن آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے نہیں۔


گاندھی یہ ثابت کرنا چاہ رہےتھے کہ ان کی یہ پیشکش قراردادِ لاہور  میں کیے گٸے مطالبوں کے عین مطابق ہے۔لیکن قاٸدِ اعظم  اس بات سے ہرگز متفق نہ ہوۓ اور یہ مزاکرات اپنے منطی انجام کو پہنچے۔

Jinnah Gandi Discussion Jinnah Gandi Discussion Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 04, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.