Kartas Ibeez قرطاس ابیض

 قرطاس ابیض

گول میز کانفرنس کے تینوں اجلاسوں کے نتاٸج کو جمع کرکے ایک خلاصہ تیار کیا جس کو ہندوستان کے آٸین کے لیے مجوزہ تجاویز کی شکل میں شاٸع کیا گیا۔ اس  دستاویز کو قرطاس ابیض کہا جاتا ہے۔ جو کہ مارچ ١٩٣٣ء میں شاٸع ہوا۔  اور پارلیمنٹ میں بحث

کے لیے برہ راست پیش کیا۔ 

دوسرے مرحلے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی ایک مشترکہ  کمیٹی کا تقرر کرکےان تجاوزات پر غور کیاگیا۔ یہ کمیٹی

 16 اراکین پر مشتمل تھی۔

اس کمیٹی نے اپریل 1933ء  سے نومبر 1934ء تک کام کیا اور اسی سال 22  نومبر کو پارلیمنٹ میں اپنی سفارشات پیش کیں ۔ ان سفارشات پر دارالعلوم میں10 تا 12 دسمبر 1934ء تک بحث کی گٸ اور دارالامرء میں 18 دسمبر کو اس پر غور کیا گیا اس کی دوسری ریڈنگ فروری 1935ء کو ہوٸ۔ اور تیسری ریڈنگ کے بعد شاہی منظوری حاصل کرنے کے بعد  مسودہ 24 جولاٸی 1935ء کو قانون بن گیا۔


گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ  1935ء


جولاٸی 1935ء میں شاہ برطانیہ کے دستخط سے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ 1935ء کے نسم سے شاٸع ہوا۔

اس ایکٹ کے مندرجات یہ  ہیں۔


اس میں ہندستان کو ایک وفاق بنانے کا وعدہ کیا گا جس میں ریاستیں, صوبے دنوں شامل کی جاتی, لیکن وفاقی مرکزی طرزِ حکومت کا بننا اس وقت ممکن نہ تھا جب تک کہ ایک مخصوص تعداد میں ریاستوں کے تمام سربراہ الحاق کے معاہدے پر دستخط نہ کردیتے۔

اور ایسا ممکن نہ ہوا اس لیے مرکزی حکومت 1919ء کے ایکٹ کے مطابق کرتی رہی  اور 1935ء کے ایکٹ کا صوباٸ حکومتوں سے متعلق حصہ رو بہ عمل رہا ریاستوں کی دفعات موثر ہوگٸیں۔


گورنر  جنرل  کو مرکز کی سربراہی اور  وسیع اختیارات حاصل رہیں گے۔ 

وفاقی مجلس قانون ساز کو دو ایوانوں میں تقسیم کردیا گیا

ایوانِ بالا یعنی ریاستوں کی کونسل

اور ایوانِ زیریں یعنی وفاقی اسمبلی۔


ریاستوں کی کونسل میں260 ارکان کو گنجاٸش تھی جن میں سے 15 برطانوی ہندوستان  سے منتخب ہوۓ اور 104 کی نامزدگی ریاستوں کے حکمرانوں کی جانب سے کی گٸ۔ 

وفاقی اسمبلی میں 375 نشستیں رکھی گٸیں جن کے لیے 250 اراکین کا انتخاب برطانوی ہند کے صوبوں کی مجالس قانون ساز سے کیا گیا اور 125 کو ریاستوں کے حکمرانوں کی طرف نازد کیا گیا۔

 مرکزی مجلس قانون سز کو کسی  بھی  قسم کا قانون  منظور کر لینے کا اختیار  دے دیا گیا۔ لیکن اس شرط پر کہ  کسی قانون کو آٸین کا حصہ بنانے سے پہلے گورنر جنرل کی منظوری حاصل کی جاۓ۔

دوسرے طرف گورنر جنرل کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔ 


انڈیا  کونسل ختم کردی گٸ اور اس کی جگہ سیکرٹری آف سٹیٹ براۓ ہند کی اعانت کرنے کے لیے چند مشیروں کا تقرر کیا گیا ۔

صوبوں کو جو قلمدان تفویض ہوۓ ان کے حوالے  سے نہیں انتظامی خودمختاری دےدی گٸ۔

مرکز میں دو عملی حکمت کو راٸج کر دیا گیا البتہ صوبوں میں اسے ختم کردیا گیا۔

سندھ کو بمبٸی اور اڑیسہ کوبہار سے الگ کرکے ان کی صوباٸ حیثیت بحال کی گٸ اور دوسرے صوبوں کی مانند  صوبہ سرحد میں بھی اصلاحات متارف کراٸ گٸیں۔

جداگانہ انتخابی نشستوں کا نظام برقرار رکھا گیا اور مرکزی مجلس قانون ساز میں مسلمانوں کو ایک تہاٸ نماٸندگی دینے کی ضمانت فراہم کی گٸ۔

یہ بھی طے پایا کہ 11صوبوں میں خودمختار حکومتیں قاٸم کی جاٸیں گی جن کی وزراتیں,مجالس قانون ساز کے سامنے جواب دہ ہوں گی۔


برما اور عدن کو ہندوستان سے الگ کردیا گیا۔

مرکز میں وفاقی عدالت قاٸم کردی گٸ اور اس کے ساتھ ساتھ ریزرو بینک آف انڈیا کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

اگرچہ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے اس ایکٹ کی مخافت کی لیکن 1936ء اور 37ء 

میں منتخب ہونے وال صوباٸ  انتخابات میں حصہ ھی لیا جو کہ اس ایکٹ کی دفعات کے تحت منعقد ہوۓ تھےآزادیکے بعد پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے عارضی طور پر اسی ایکٹ کو چند ترامی کے ساتھ ان آٸین کے طور پر راٸج کیا


کانگریس وزارتیں


اب کانگریس کوصوبوں میں اپنی حکومتیں تشکیل دینا تھیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے یہ شرط پیش کردی کہ گورنر جرنل قانون سازی کے امور میں انے  اختیارات استعمال کرنے سےباز رہےگا۔ طویل مباحثے کے بعدحکومت برطانیہ نے یہ شرط منظور کرلی اگرچہ اس کی نوعیت محض زبانی کلامی  تھی اور  آٸین میں اس حوالے سے کوٸ ترمیم نہ کی گٸ۔

بہرحال چار مہینوں کے طویل عرصے کے بعد کانگریس نے جولاٸ 1937؟میں

صوبوں میں اپنی حکومت تشکیل دی۔


 اس مرتبہ کانگریس نے کھل کر ہندوٶں کی جماعت ہونے کا ثبوت دیا اور ان کے  اقتدار کے 27مہینے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مصاٸب اور پریشانیوں کا نیا سلسلہ ثابت ہوا۔ بعض کانگریسی رہنما اس حدتک کہہ گۓ کہ وہ مسلمانوں سے پچھلے سات سالوں کی غلامی کا بدلہ لیں گے۔

حکومتوں کی تشکیل سے پہلے کانگریس نے مسلم عوام سے رابطے کی ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد اس بات پر قاٸل کرنا تھا کہ برصغیر میں صرف دو سیاسی فریق ہیں یعنی کانگریس اوربرطانیہ ۔ 

اس مہم میں ناکامی کے بعد ہندو , مسلمانوں سے کھلی دشمنی  پر اتر آۓ

حکومت سنبھالتے ہی کانگیس نے ہندی کو قومی زبان ار دیوناگری کو اس کا سرکاری رسم الخط قرار دیا۔ کانگریس کے جھنڈے کو قومی جھنڈا بنادیا۔

گاۓ ذبح کرنا قانونی طور پرممنوع کردیا گیا۔ 

اسکولوں میں گاندھی کی تصایر لگادی گٸیں اور بچوں کو اس کی تصویرکو نمسکار کرنے پر پابند کیا گیا۔ 

بندے ماترم کو قومی ترانے کا درجہ دے دیا گیا ۔

نٸ مساجد کی تعمیر پر پابندی لگادی گٸ۔

نمازکے اوقات شر پسند ہندو ڈھول پیٹنا شروع کردیتے اور غل غپاڑہ کرتے۔


کانگریس نے ایک نٸی تعلیمی پالیسی متعارف کرواٸ جسے واردہ تعلیمی پالیسی کانام دیا گیا۔

جس کامقصسد مسلمان بچوں کوان کے اصل سے ہٹانا تھا اور ان کے بنیای نظریۓ سے منحرف کرنا تھا اور ان کو اس بات کی تعلیم دینا تھا کہ وہ شروع سے ہندوستانی ہیں اور امتِ مسلمہ کے بجاۓ ہندوستانی قوم کا حصہ ہیں ۔

اس اسکیم کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی, سماجی, اخلاقی, ثقافتی  اور معاشرتی اقدار اور روایات کو مسخ کرنا تھا۔ اور ہندو مذہب اور ثقافت راٸج کرکے ان کی بالادستی قاٸم کرنا تھا۔



یومِ نجات


کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں کے معاشی حالات بگاڑنے میں کوٸ کسر نہ چھوڑی۔

سرکاری ملازمت کرنے کے راستے مسلمانوں پر بند کر دیے گۓ۔

اورایسے اقدامات کیے گۓجس سے مسلمانوں کی تجارت اور زراعت کو نقصان پہنچا۔ ج کانگریس کی متعصبانہ پالیسیوں  کے خلاف احتجاج اور مظاہرت زور پکڑے تو ان مظاہروں کو فسادات کانام دیا گیا اور ججوں پردباٶ ڈالنا شروع کیا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کڑا سلوک کریں۔

مسلمانوں کے احتجاج کے ساتھ انصاف پسند برطانوی بھی  ان ناانصافیوں کے آگےچپ نہ رہ سکے۔ اپریل 1938ءمیں مارکٸس آف لوتھیان نے کانگریس حکومت کو ہندو حکومت کا چڑھا ہواسیلاب قرار دیا۔ نیشنل ریویو کی جون 1939ء کی اشاعت میں بھی اس حکومت کو سیاسی  ہندوازم کا چڑھا ہوا سیلاب کہہ کرپکارا گیا 

مسلمانوں کے لیے مشکلات کا یہ وقت دوسری جنگِ عظیم تک جاری رہا۔ 

۔واٸسراۓ نے مرکزی حکومت سے مشورہ کیے بنا اس جنگ میں ہندوستان کے اس جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔  اورصوباٸ حکومتوں سے اعانت طلب کی۔ کانگریس نے یہ شرط رکھ کر اعانت فراہم کرنے ہرحامی بھری کہ ہندستان کا اقتدار فوری طور پر ہندستانیوں کومنتقل کردیا جاۓ گا۔ 

برطانوی حکومت نے انکار کردیا ۔

احتجاج کےطور پر کانگریسی ارکان نے اپنی نشستوں سے استعفے دے دیے۔ 

یوں تمام صوبوں سے کانگریسی حکومتیں ختم ہوگٸیں۔

یہ واقعہ 22 دسمبر 1939ءکو پیش آیا اور قاٸدِ اعظم نے مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ کاگریسی جبر اور ظلم وستم

 سے چھٹکارا حاصل ہوجانے کی خوشی میں اس دن کو یومِ نجات کے طر پر مناٸیں۔ اوراللّہ کا شکرادا کریں ۔

Kartas Ibeez قرطاس ابیض Kartas Ibeez  قرطاس ابیض Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 01, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.