Lahore Resolution 1940



قرارداد لاہور 1940ء 

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے ایک میدان منٹو پارک میں لاکھوں مسلمانوں کی موجودگی میں بنگال کے وزیرِاعلی  مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی مسلمانوں نے دل و جان سے تاٸید کی۔

22 سے 23 مارچ تک مسلم لیگ کا ستاٸیسواں سالانہ اجلاس قاٸدِ اعظم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ 

قاٸدِ اعظم نے ابتداٸ خطبے میں  ہندوستان کے حالات و گزشتہ واقعات کا ذکر کیا۔

اور ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا۔

آپ نے دو ٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ ہم ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے آزاد خطوں کی جدوجہد کا اعلان کرتے ہیں۔قاٸد کی100منٹ کی سحر انگیز تقیر جس میں آپ نے کہاکہ ہندو ایک الگ قوم ہے مسلمان علیحدہ اور  اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہوۓ  کہاکہ میں مسلمانوں کا رہنما ہوں۔ 

اس ملک لے لیے کوٸی بھی آٸینی منصوبہ اس وقت تک نہ تو قابل عمل اور نہ ہی مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہوگا کب تک اس کی اساس اس اصول پر نہ رکھی گٸ ہوکہ جغرافیاٸ 

طور پر متصل وحدتوں کی نشاندہی کے بعد انہیں ضروری علاقاٸ ردوبدل کے بعد ایسے منطقوں میں تقسیم یا جاۓ جس سے ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی  علاقے جہاں مسلمان کو عددی اکثریت حاصل ہے  ۔ آزاد مملکتوں  کی شکل اختیار کرلیں اور ان کی مختلف اکاٸیاں  خود مختار  اور اقتدار اعلی کی حامل ہوں۔

مناسب اور موثر تحفظات خصوصاََ ان اکاٸیوں میں اقلیتوں کے لیے فراہم کیے جاٸیں تا کہ ون کے دینی ,ثقافتی , اقتصادی, سیاسی  ,انتظامی اور دیگر  حقوق اور مفادات کا تحفظ ہوسکے۔


قرار داد لاہور سے عوام کے مختلف طبقات پر مختلف اثرات مرتب ہوۓ۔

ہندوٶں  نے  اس قرار داد کی مخالفت کی۔


اس قرار دا کی منظوری کے بعد مسلم لیگ کی پالیسی واضح ہوگٸ ۔

مسلم لیگ متحدہ ہندوستان جس پر ہندو اکثریت کا تسلط  ہو اس بات کو پسند نہیں کرتی جس میں ایک پارلمانی نظام حکومت اور نام کی جمہوری ہےجس کے نام پر مسلمانوں کے حقوق اور مفادات کو روندا جارہا ہے۔

اس قرار داد سے علیحدہ وطن کی تشکیل کے لیے راہ ہموار ہوٸ۔




Lahore Resolution 1940 Lahore Resolution 1940 Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 03, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.