Minority Government in Punjab

 


پنجاب میں اقلیتی حکومت


کانگریس نے اپنی اکثریت والے  آٹھ صوبوں میں وزارتیں بنالیں۔

ان میں دو صوبے خیبر پختون خوا اور آسام  جن پر پاکستان کا دعوی تھا اور بنگال سندھ اور پنجاب میں مسلم لیگ واحد اکثریتی جماعت تھی۔

بنگال اور سندھ میں مسلم لیگ کی حکومت بن گٸ۔ 

پنجاب میں گورنر نے واٸسراۓ کی منظوری سے اکثریتی جماعت کا حق تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ وہ حکومت بناۓ اس کی جگہ کانگریس کے زیرِ تسلط ایک مجلس وزارت بناٸی جس کی وزارت خضر حیات خان ٹوانہ کے سپرد کی گٸ۔پنجاب اسمبلی میں  مسلم لیگ نے 175 میں سے 75 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اگرچہ یہ مطلق اکثریت نہں تھی  کیوں کہ کمیونل ایوارڑ 1932ء  کے ذریعے برطانوی حکومت نے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا تھا۔لیکن پھر بھی یہ ممکن تھا کہ چند ہندو اورسکھوں کے تعاون سے  پنجاب میں حکومت قاٸم کرسکتی تھی

لیکن کانگریس اور سکھوں نے یہ ناممکن بنادیا۔کانگریس کےصدر مولانا ابوالکلام آزاد کے زور دینےپر خضر حیات  ٹوانہ اور بلدیو سنگھ  نے کانگریسی ہندوٶں  اور اکالی سکھوں کی مدد سے ایک ناپاٸیدار حکومت بنالی۔ اس غیر اصولی امتزاج کا مقصد مسلم لیگ کو پنجاب کے اقتدار سے محروم کرنا تھا۔

Minority Government in Punjab Minority Government in Punjab Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 04, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.