Simla Confrence 1945


 شملہ کانفرنس 1945


مٸی 1945ء میں واٸسراۓ ہندوستان لارڈ ویول لندن گۓ اور ہندوستان کےآنے والے معاملات و حالات کے بارے میں حکومت سے بات چیت کی۔

اس گفتگو کا نتیجہ ایک عملی منصوبے کی صورت میں نکل جو کہ جون 1945ء  میں منظرِ عام پر لایا گیا۔ یہ منصوبہ ویول پلان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ منصوبے میں یہ تجویز کیا  گیا کہ واٸسراۓ کی مجلس املہ کو ازسرنو تشکیل دیا جاۓ۔

اور اس کے ارکان کے حوالے سے ان افراد کو منتخب کریں گے جنہیں سیاسی جماعتیں نامزد کریں گی۔ہندو مسلمانوںکے درمیان مساوات کا اصول رکھا جاۓ گا۔

بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ ان تجاویز پر بات چیت کے لیے لارڈ ویول نے 25 جون 1945ء کے روز شملہ میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں مسلم لیگ, کانگریس دونوں کی قیادت نے شرکت کی۔


شملہ کانفرنس کے دوران مسلم  نماٸندگی کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے مابین ایک بار پھر اختلافات کھڑے ہوگۓ۔


مسلم لیگ کا موقف تھا کہ وہ برِ صغیر میں مسلمانوں کی نماٸندگی کرتی واحد جماعت ہے۔  اسلیے واٸسراۓ کی مجلس عاملہ کے تمام

مسلم اراکین ان کی طرف سے نامزد کیے جاٸیں گے۔

کانگرس نے اسی خاص مقصد کے لیے مولانا ابواکلام آزاد کو اپنے وفد کا سربراہ بنایا تھا۔ 

یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہندوستان میں  بسنے  والی تمام  قوموں کی نماٸندہ ہیں,

اس لیے ان کو بھی مسلم نماٸندے نامزد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ 

کانگریس ہندو اور مسلمانوں میں نشستوں کی تقسیم  کے معاملے میں مساوات کے اصول کے ہزگز حق میں نہیں تھے۔

دوسری جانب برطانوی حکومت خود اپنے وفاداروں پر مشتمل یونینسٹ پارٹی کےنامزد مسلمان اراکین کو کونسل میں شامل کرنا چاہتی تھی

لیکن یہاں بھی قاٸدِ اعظم کی دور اندیشی  کام آٸی اور انہوں نے غیر لیگی  اراکین کو مسلمانوں کا نماٸندہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ان تمام باتوں کا نتیجہ ڈیڈلاک کی صورت نکلا اور 14 جولاٸی کو لارڈ ویول نے ناکامی کا اعلان کیا اور شملہ  کانفرنس بھی کسی مثبت نتاٸج کے  بنا ناکام ہوٸ۔

Simla Confrence 1945 Simla Confrence 1945 Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 04, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.