Sindh Madarsah tul Islam Karachi


 سندھ مدرسة الاسلام کراچی


حسن علی آفندی نے یکم ستمبر 1885ء کو سندھ کے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور ترقی کے حصول کے لیے اس ادارے کو قاٸم کیا۔ 

حسن علی آفندی نے اس ادارے کے چندے کے لیے ملک کے کٸ دورے کیے اور فنڈز اکٹھے کیے۔

اس ادارے کا پہلا پرنسپل کسی انگریز کو بنایا جاۓ گا تو ریاست خیر پور کے حکمران اس کی تنخوا ادا کریں گے اور بھاری چندا بھی اس ادارے کودیں گے ۔ یہ طےپایا گیا اور اس ادارے کاپہلا پرنسپل پرسی ہاٸیڈ کو بنایا گیا۔

ان کے اسکول چھوڑنے کے بعد پروفیسر وانس نے بیس سال  اس تعلیمی ادارے  کی تعمیر و ترقی میں صرف کیے۔


بولٹن مارکیٹ میں کرایہ کی عمارت سے اس مدرسے کا آغاز کیا گیا ۔

بعدِ ازاں حسن علی آفندی کی کاوشوں کے بعد الگ سے عمارت کم کراۓ پر لے کر ایک مسجداور بورڈنگ ہاٶس بنا کر اس ادارے کی بنیاد کو مضبوط و مستحکم بنایا۔ 

1986ء  آپ انتقال کرگۓ۔

یہ ایک اقامتی تعلیمی ادارہ تھا قاٸدِاعظم نے ابتداٸ تعلیم  یہیں سے حاصل کی اور اپنی جاٸیداد کا ایک مناسب حصہ سندھ مسلم کالج  کے لیے وصیت کیا۔


حسن علی آفندی کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ولی محمد ادارے منتظمِ اعلی بنے اور کچھ ناخوشگوار شراٸط پر ادارے  کی سرکاری سرپرستی حاصل کی۔

ان کی وفات کے بعد 1938ء میں حسن علی عبدالرحمن نےمدرسے کےانتظام سنبھالے اور اس ادارے کوحکومتی کنٹرول سےباہر نکالنے میں کامیاب ہوۓ۔

مدرسےکے انتظامی بورڈ نے  21 جون 1943ء کو اس ادارے کو سندھ مسلم کالج میں تبدیل کیا جس کا سنگِ بنیاد  قاٸدِ اعظم نے رکھا ۔

1947ء میں یہ واحد ادارہ تھا جو سندھ  میں ہندوستان سےآۓ طلباء کی تمام ضروریات کی تکمیل کرتا تھا۔ 

ضرورتِ وقت کے حساب سے اب یہ مدرسہ پھیل کر کٸی  خودمختار اداروں میں تبدیل ہوگیا ہے ۔

Sindh Madarsah tul Islam Karachi Sindh Madarsah tul Islam Karachi Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 04, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.