Sir Syed Ahmed Khan

 سرسید احمد خان


مسلمانوں کو علومِ جدید سے متعارف کرانے  والی شخصیت سرسید احمد خان کی تھی۔

 

مسلمانوں کے لیے آپ کی علمی کاوشیں  ناقابلِ فراموش ہیں۔

1857ء کی جنگِ آزادی پر اسباب بغاوت ہند کتاب تحریر کی۔

 

سرسید احمد نے  محسوس کرلیا تھا کہ دنیا میں اپنا مقام بنانے کے لیے مسلمانوں کو ماضی کے کارناموں میں جینے کےبجاۓ عملی میدان میں اتر کر  اپنی پہچان بنانی ہوگی۔


اور مغربی علوم اور انگریزی زبان سے نفرت کرکے  کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ لہذا آپ نے اپنی زندگی اس کام کے لیے وقف کردی اور اپنے آخری وقت تک اس کام کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ 


آپ1869ء میں اپنے بیٹے کے ساتھ انگلستان چلے گۓ اور آپ نے وہاں آکسفروڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں   کے تعلیمی نظام کا مشاہدہ کیا اور اِس نظام سے متاثر ہوۓ اور ہندوستان میں اسی نظام کے طرز پر  یونیورسٹی اور کالج قاٸم کرنے کا ارداہ کیا۔ 


آپ نے ہندوستان آکر  انجمنِ مسلمانان ہند کے نام سے ایک ادارہ قاٸم کیا جس کا مقصد مسلمانوں کو جدید طریقہ تعلیم سے روشناس کرانا تھا۔


 1870ءمیں آپ نے تہذیب الاخلاق کے نام سے رسالہ لکھا۔جس میں آپ نے  اصلاح طلب معاشرتی پہلوٶں کی طرف توجہ دلاٸ ۔

 

آپ مسلمانوں کی علمی ترقی کے لیۓ ایک کمیٹی قاٸم کی جسکا مقصد اعلی تعلیم کے حصول کے لیے کالج کا قیام تھا اور ساتھ ساتھ فنڈ کمیٹی قٸم کی جس نے کالج کی تعمیر کے لیۓ چندہ جمع کیا۔  آپ نے اس کالج کی تعمیر کے معاملے میں حکومت سے مددکی اپیل بھی کی ۔


1875ء میں علیگڑھ میں ایم اے او ہاٸی اسکول قاٸم کیا, 1877ءمیں اس اسکول کو کالج کا درجہ دیا گیا۔


یہ ایک رہاٸشی کالج تھا جہاں تمام علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ اس کالج کو جامعہ کا درجہ دینے کی آپ یہ درینہ خواہش آپ کی وفات کے بعد  1920ء میں پوری ہوٸ ۔

آپ نے 1859ء میں یوپی میں ایک فارسی مدرسہ قاٸم کیا جہاں انگریزی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ 


آپ کے علیگڑھ کالج میں طلبہ کودین کی بنیادی تعلیم دینے کے لیۓ لازمی لیکچر دیے جاتے۔


1864ء میں وکٹوریہ اسکول کے نام سے دوسرا اسکول شروع کیا۔ 


1863ء میں غازی پور مں ایک ساٸنٹفک  سوساٸٹی  قاٸم کی۔


جس میں فارسی عربی  انگریزی علوم سکھاۓ جاتےاور جس کا مقصد ساٸنس اورٹیکنالوجی کی کتابوں کا اردو ترجمہ کرنا تھابعد میں یہسوساٸٹی علی گڑھ منتقل کردی گٸ۔


30 مارچ 1866ء سے اس ادارے نے ایک ہفت وار میگزین علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ  کے نام سے شاٸع کیا اس کاکام مختلف کتابوں کے  اردو  ترجمے کرنا بھی تھا ۔ اس میگزین نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس کے اخراجات سر سید احمد خود اٹھاتے۔ 


اور  باقی ادارے چلانے ے لیے آپ ہرممکن فنڈ اکھٹے کرنے کی کوششیں کرتے رہتے۔ 


علیگڑھ کالج کو کامیاب بنانے میں آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے سید محمود  کی بھی محنت شامل تھی وہ اس کالج میں  اپنے ساتھ , غیر ملکی ساتھی بھی لاۓ تاکہ وہ یہاں کے طلبہ کو پڑھاٸیں۔ 


سررسید کا مقصد تھا کہ  غیر ملکی اساتذہ اس کالج کےطلبہ کو بہترین جدید تعلیم دیں,


 اس طرح مسلمانوں اور برطانوی افسروں کے بیچ پیدا شدہ خلیج بھی کم ہونے کا اندیشہ تھا جو کہ غدر کے بعد سے موجود تھی۔ 


علی گڑھ کالج ہر قومیت کے  شخص کے لیے کھلا تھا۔


علی گڑھ کےقیام کے مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہوۓ اور پورے ملک میں نٸے طرز کے مسلم اسکولوں کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا۔ 


آپ ایک متنوع المزاج شخصیت کے مالک تھے اورر یہ رنگ ان کی تصانیف  میں نظر آتا تھا۔ 


سیاست۔

سر سید احمد ہندو مسلم اکھٹے معاشرے کے حق میں تھے لیکن جب  اردو کی سرکاری زبان کی حیثیت کے  خلاف  تحریک شروع ہوٸ تب آپ کے خیالات بدلے کہ جوزبان پر ایک نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں۔


اسی لیٕ کانگرنس کے قیام کے وقت آپ نے مسلمانوں کو سیاست سے دور ہنے کا مشورہ دیا  اور کانگرنس میں شمولیت سے بھی منع کیا, اور اپنی تمام تر توجہ تعلیم و ترقی پر صرف کر کے اپنی معاشی و معاشرتی حالت سدہارنے  کا مشورہ دیا ۔


سر سید کا کہنا تھا کہ مسلمان بالکل علیحدہ جداگانہ تہذیب ثقافت اور رسم و رواج رکھتے ہیں لہذا ان کی علیحدہ قومی حیثیت ہے اس لیے آپ نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے علیحدہ تحفظات  مانگے۔


سر سید نے لوکل کونسلوں میں نشستوں کی تخصیص چاہی۔ اعلی سرکاری ملازمتوں کے لیے کھلے مقابلے کے امتحان کے خلاف آواز اٹھاٸ اور مہم بھی چلاٸ۔ 


آپ نے اکثریت کی مرضی پر قاٸم ہونے والی حکومت کے نظام کوبھی ناپسندکیا 


سرسید کی کوششوںکے اثرات دور رس ثابت ہوے


مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے خود  کو کانگرنس سے دور رکھا مسلمانوں کے اس رویہ کی وجہ سے آپ نے اگست 1888ء میں انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن بناٸ جس کا بنیادی مقصد کانگرنس کی مخالفت تھا اور یہ ادارہ پمفلٹ  چھاپ کر برطانیہ کے لوگوں ہندوستان کے لوگوں کے حالات سے آگاہ کرنا تھا۔


آپ 1898ء میں 81 سال کی عمر میں انتقال کرگۓ ۔

Sir Syed Ahmed Khan Sir Syed Ahmed Khan Reviewed by Syed Daniyal Jafri on September 03, 2020 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.